امام ابن ماجہ کا تعارف
فن
حدیث کے آئمہ ستہ میں امام ابن ماجہ کا نام سب سے اخیر میں آتا ہے۔ دوسرے آٹمہ حدیث
کی طرح امام ابن ماجہ نے بھی خدمت حدیث میں بڑا نام کمایا اور اپنے بے شمار مداحین
پیدا کیے۔ امام ابو القاسم تاریخ قزوین میں
لکھتے ہیں کہ ابن ماجہ آئمہ مسلمین کے ایک
عظیم امام ثقہ شخصیت کے مالک اور اہل علم میں بے حد مقبول تھے۔ محدث خلیلی کہتے ہیں
کہ وہ تفسیر، حدیث اور تاریخ کے بہت بڑے عالم تھے خصوصاً علم حدیث میں تو وہ بہت بڑے ماہر اور حافظ گردانے
جاتے تھے اور ان کے اقوال لوگوں کے لیے سند کا درجہ رکھتے تھے۔ علامریاقوت حموی معجم
البلدان میں لکھتے ہیں کہ ابن ماجہ کا قزوین کے ممتاز آئمہ میں شمار ہوتا تھا۔ اسی
طرح شمس الدین ذہبی ، شهاب الدین، ابن حجر عسقلانی، ابن خلکان، ابن ناصر الدین اور
دیگر مؤرخین اور ناقدین فن نے امام ابن ماجہ کی علم حدیث میں امامت، رفعتِ شان ، وسعت نظر، حفظِ حدیث اور ثقاہت کا اعتراف اور اقرار کیا ہے۔ ان کی علمی
اور فنی خدمات کو سراہا ہے اور شاندار طریقے سے انکے فضائل
اور
مناقب بیان کیے ہیں،
نام و نسب
امام
ابن ماجہ کا پورا نام اس طرح ہے: حافظ ابوعبدالله بن یزید الربعی ابن ماجہ
القزوینی
(حافظ
ابن حجر عسقلانی متوفی 852 ھجری، تہذیب التہذیب
