میرے بھائیو! اس کتاب کے مصنف امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جن کا مکمل نام "ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری الجعفی "ہے۔ آپ 13شوال المکرم 194ء میں ماوراء النہر کے مشہور شہر بخارا میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والدمحترم اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ الجعفی عظیم محدث اور ایک صالح بزرگ تھے۔ امام ابن حبان نے ان کو طبقہ رابعہ کے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ نیز امام ذہبی نے تاریخ اسلام اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں ان کا مفصل تذکرہ لکھا۔
کتاب کا ترجمہ اہل سنت کی عظیم علمی شخصیت محمد ناصر الدین ناصر المدنی العطاری نے کیا ہے
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے علم حدیث کی عظیم خدمت کی اور امیر المؤمنین فی الحدیث کہلائے اور آپ ایسے محدث ہیں جو حافظ الحدیث بھی کہلاتے ہیں۔ نیز آپ کے اساتذہ و طلباء اور اس زمانے کے لوگ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہپر رشک کرتے تھے۔ اس زمانے میں امام احمد بن حنبل ، امام یحیٰ بن معین اور امام علی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہم کا فنِ حدیث میں چرچا تھا مگر جب آسمانِ علمِ حدیث پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا سورج طلوع ہوا تو تمام محدثین ستاروں کی طرح چھپتے چلے گئے۔ گو کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مجموعہ احادیث بھی روایاتِ صحیحہ پر مشتمل تھا مگر





