Sunday, April 11, 2021

Wudu k Fazail | Urdu

 Wudu k Fazail | Urdu




مکمل تحریر >>

Wednesday, April 8, 2020

Solved some conflicts about Shab e Barat / شبِ برات سے متعلق کچھ اہم باتیں اور اختلافات کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں





٭ القرآن٭

"بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔"

(سورۃ دخان: آیت:3)

٭تفسیر٭
اس رات سے یا شبِ قدر مراد ہے یا شبِ برات۔ اس شب میں قرآن پاک ایک دفعہ پورا لوحِ محفوظ سع آسمانِ دنیا کی طرف اتارا گیا پھر وہاں سے جبرائیل علیہ السلام تئیس (23) سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے۔ اس شب کو شبِ مبارکہ اس لئے فرمایا گیا کہ
مکمل تحریر >>

Friday, June 21, 2019

تعویز کے احکام اور ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں | Taveez _ka_ Jawaz


معزز بھائیو اور بہنو ! اس موضوع میں قرآن کریم، احادیث مبارکہ ،  فرامین صحابہ ، ارشادات ِائمہ اور اقوال فقہا ء ومفسرین ومحدثین سے تعویزات اور دم کرنے کو ثابت کیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں یقینا ً شفا ہے

 تعویذات میں عموماً  قرآن مجید کی آیات اور اسماء الہی بھی ہوتے ہیں اور ان ہی کو پڑھ کر دم کیا جاتا ہے لہذا تعویذات سے استفادہ کرنے والا قرآن سے شفا طلب کرنے والا ہے اور یقینا قرآن کریم میں شفا ہے، چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا
ترجمہ: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔
یہی مضمون احادیث میں بھی موجود ہے
حدثنا محمد بن عبيد بن عتبة بن عبد الرحمن الكندي حدثنا علي بن ثابت حدثنا سعاد بن سليمان عن أبي إسحق عن الحارث عن علي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خير
مکمل تحریر >>

Thursday, June 20, 2019

Sahaba kiram k Bary me Aqaid AhL e Sunnat | صحابہ کرام کے بارے میں اہل سنت کے عقائد



٭ اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جس مسلمان نے ایمان کی حالت میں دیکھا اور ایمان پر ہی اس کا خاتمہ ہوا، اس بزرگ ہستی کو صحابی کہتے ہیں۔  (فتح الباری، کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ، ج8، ص3)
٭ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اہل خیر اور عادل ہیں، ان کا جب
مکمل تحریر >>

Sunday, May 12, 2019

سنن ابن ماجہ مکمل عربی-اردو مترجم عبد الحکیم اختر شاہ جہانپوری | Sunan Ibne Maja Complete Arabic-Urdu


امام ابن ماجہ کا تعارف
فن حدیث کے آئمہ ستہ میں امام ابن ماجہ کا نام سب سے اخیر میں آتا ہے۔ دوسرے آٹمہ حدیث کی طرح امام ابن ماجہ نے بھی خدمت حدیث میں بڑا نام کمایا اور اپنے بے شمار مداحین پیدا کیے۔ امام ابو القاسم  تاریخ قزوین میں لکھتے ہیں کہ ابن ماجہ آئمہ  مسلمین کے ایک عظیم امام ثقہ شخصیت کے مالک اور اہل علم میں بے حد مقبول تھے۔ محدث خلیلی کہتے ہیں کہ وہ تفسیر، حدیث اور تاریخ کے بہت بڑے عالم تھے خصوصاً  علم حدیث میں تو وہ بہت بڑے ماہر اور حافظ گردانے جاتے تھے اور ان کے اقوال لوگوں کے لیے سند کا درجہ رکھتے تھے۔ علامریاقوت حموی معجم البلدان میں لکھتے ہیں کہ ابن ماجہ کا قزوین کے ممتاز آئمہ میں شمار ہوتا تھا۔ اسی طرح شمس الدین ذہبی ، شهاب الدین، ابن حجر عسقلانی، ابن خلکان، ابن ناصر الدین اور دیگر مؤرخین اور ناقدین فن نے امام ابن ماجہ کی علم حدیث میں امامت، رفعتِ  شان ، وسعت نظر، حفظِ حدیث  اور ثقاہت کا اعتراف اور اقرار کیا ہے۔ ان کی علمی اور فنی خدمات کو سراہا ہے اور شاندار طریقے سے انکے فضائل  
اور مناقب بیان کیے ہیں،
نام و نسب
امام ابن ماجہ کا پورا نام اس طرح ہے: حافظ ابوعبدالله بن یزید الربعی ابن ماجہ القزوینی  
(حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی 852 ھجری، تہذیب التہذیب
مکمل تحریر >>

سنن نسائی مکمل عربی-اردو مترجم ملک محمد بوستان | Sunan Nasai Complete Arabic-Urdu


بسم الله الرحمن الرحيم

سوانح حیات حضرت امام نسائی رحمۃ الله تعالی
 نام: احمد بن شعيب بن علی بن بحر بن سنان بن دینار
 لقب:  امام
کنیت: ابوعبدالرحمن
امام ابو عبد الله ذہبی نے تذکرة الحفاظ میں اور امام ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں سن پیدائش 215ہجری بتایا ہے۔ جبکہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے بستان المحدثین میں 214ہجری ذکر کیا ہے۔ امام نسائی نے اپنی پیدائش کا سال 215ہجری قرار دیا ہے۔
آپ کی پیدائش خراسان کے مشہور شہر "نسا" میں ہوئی۔ اسی نسبت سے آپ نسائی کہلاتے ہیں۔ تاہم بعد ازاں مصر میں سکونت اختیار کر لی تھی۔
مروج علوم کی تحصیل کے بعد علم حدیث کے حصول کے لیے جناب قتیبہ بن سعید بلخی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے ہاں آپ کے استفادہ کا دورانیہ ایک
مکمل تحریر >>

Saturday, May 11, 2019

Sunan Abu Daud Complete Arabic-Urdu | سنن ابو داؤد مترجم عربی-اردو مکمل



سوانح حیات امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ

وہ آئمہ حدیث جنہیں کتب صحاح ستہ مرتب کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ان میں سے ایک حضرت امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ مصنف سنن ابی داؤد بھی ہیں۔ حدیث و فقہ کی معرفت اور ادراک تام کے سبب علماء نے امام بخاری و مسلم رحمۃ اللہ علیہما کے بعد آپ کا درجہ اور رتبہ بیان کیا ہے۔ آپ کا اسم گرامی اور سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حافظ ابو داؤد سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن سداد بن عمرو بن عمران الازدی سجستانی۔ آپ کی کنیت ابو داؤد ہے۔ آپ  کے جد اعلیٰ عمران، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں جنگِ صفین  میں شریک ہوئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔ 202ء میں آپ کی ولادت  معروف قبیلہ بنی ازد میں ہوئی، اسی نسبت سے آپ ازدی کہلاتے ہیں اور چونکہ آپ نے ملک سجستان میں آنکھ کھولی اس نسبت سے آپ سجتانی کہلاتے ہیں۔

کتاب کا ترجمہ اہل سنت کی عظیم علمی شخصیت محمد انور مگھالوی مد ظلہ العالی نے کیا ہے

وطن مالوف

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کا وطن سجستان ہے لیکن اس کے تعین کے بارے میں علماء نے دو آراء کا اظہار کیا ہے۔ ایک رائے کے مطابق سجستان بصرہ کے قریب ایک گاؤں ہے۔ اس کا اظہار مؤرخ ابن خلکان نے کیا ہے مگر دیگر علماء نے ان سے اتفاق نہیں کیا ہے۔
            دوسری رائے جو صحیح اور عام ہے وہ یہ ہے کہ
مکمل تحریر >>

Friday, May 10, 2019

Sahih Muslim Complete Arabic-Urdu | صحیح مسلم مکمل عربی-اردو مترجم ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر



امیر المسلمین فی الحدیثمسلم بن حجاج بن مسلم، ابو الحسین القشیری نیشاپوری

تیسری صدی کے جن محدثین اور علماء راسخین نے علمِ حدیث کے تنقیح اور توضیح کے لئے متعدد فنون ایجاد کیے اور اس علم کی توسیع اور اشاعت میں گراں قدر خدمات انجام دیں ان میں امام مسلم بن حجاج القشیری کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔
امام مسلم فنِ حدیث کے اکابر آئمہ میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ابو زرعہ رازی اور ابو حاتم رازی نے ان کی امامتِ حدیث پر شہادت دی۔ امام ترمذی اور ابو بکر خزیمہ جیسے مشاہیر نے ان سے روایت حدیث کو باعث شرف سمجھا اور ابو قریش نے کہا کہ دنیا میں صرف چار حفاظ ہیں اور امام مسلم ان میں سے ایک ہیں۔

ولادت اور سلسلئہ نسب

عساکر الملت والدین ابو الحسین امام مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد القشیری خراسان کے ایک وسیع اور خوبصورت شہر نیشاپور میں بنو قشیر کے خاندان میں پیدا ہوئے ۔ امام مسلم کی ولادت کے سال میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ شاہ عبد العزیز نے ان کا سالِ ولادت 202ھ لکھا ہے اور امام ذہبی نے 204ھ بیان کیا اور جبکہ ابنِ اثیر نے
مکمل تحریر >>

جامع ترمذی مکمل عربی-اردو مترجم محدث اہل سنت ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیر | Jamia Tirmazi Complete Arabic-Urdu



کتاب کا نام
جامع ترمذی مترجم عربی-اردو مکمل تین جلدیں
مصنف کا نام
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ بن ضحاک ترمذی
مترجم کا نام
ابو العلاء محمد محی الدین جہانگیری
ناشر
شبیر برادرز،  اردو بازار، لاہور
تعارفِ مصنف امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ 
علمِ حدیث کے اس خوبصورت مجموعہ کو ترتیب دینے والے مصنف کا نام "امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ بن ضحاک ترمذی "ہے۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ علم حدیث کے ان ماہرین میں سے ایک ہیں جن کی علمِ حدیث میں پیروی کی جاتی ہے۔ ان کی تصنیف "جامع ترمذی" کو علمِ حدیث کا تیسرا بڑا ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ بعض محققین نے سنن ابو داؤد کو جامع ترمذی پر ترجیح دی ہے، تاہم عام طور پر اہل علم کے نزدیک صحیح بخاری و صحیح مسلم کے بعد جامع ترمذی ہی علمِ حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے۔
پیدائش:
                امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ 209ھ میں وسطِ ایشیاء کے شہر "بلخ" کے نواحی قصبہ "ترمذ" میں پیدا ہوئے، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا  نام ان کے اسی وطن کی طرف منسوب ہے۔
اساتذہ و مشائخ:
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ حدیث کی طلب میں عراق، خراسان، حجاز کے مختلف بلادو امصار کا سفر کیا اور اپنے زمانے کے تمام اکابر محدثین سے اخذ و استفادہ کیا۔ آپ کے مشہور اساتذہ میں سے چند ایک کے اسماء درج ذیل ہیں:
1.       امام ابو عبد اللہ محمد بن اسمٰعیل بخاری الجعفی رحمۃ اللہ علیہ  (صحیح بخاری کے مؤلف)
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "جامع" میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے 50 روایات نقل کی ہیں۔
2.       امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری   رحمۃ اللہ علیہ   (صحیح مسلم کے مؤلف)
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "جامع" میں امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے صرف ایک روایت نقل کی ہے۔
3.       امام ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن دارمی رحمۃ اللہ علیہ   (سنن دارمی کے مؤلف)
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "جامع" میں امام دارمی کے حوالہ سے 59 روایات نقل کی ہیں۔
ان کے علاوہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے دیگر بہت سے مشائخ سے استفادہ کیا ہے۔
تلامذہ و مسترشدین:
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک خلقِ کثیر نے استفادہ کیا۔
امیر المؤمنین فی الحدیث، امام ابو عبد اللہ محمد بن اسمٰعیل بخاری نے بھی امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ سے بعض احادیث کا سماع کیا ہے، جس کی تصریح خود امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے جامع ترمذی میں کی ہے۔
کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحشر، رقم الحدیث 3225
کتاب المناقب ، باب مناقب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، رقم الحدیث 3861
(مذکورۃ بالا نمبر جامع ترمذی کے اسی نسخے کے ہیں جس کے مترجم ابو العلاء محمد محی الدین  جہانگیری مدظلہ العالی  ہیں)
اس کے علاوہ ابو حامد احمد بن عبد اللہ مروزی، احمد بن یوسف نسفی، ابو حارث اسد بن حمدویہ، داؤد بن نصر بذدوی، محمد بن مکی، محمد بن منذرہروی اور دیگر بہت سے افراد امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ کی صف میں شامل ہیں، جن کا ذکر حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ نے "تہذیب التہذیب" میں کیا ہے۔
ثنائے علماء:
اکابر محدثین نے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا ہے۔
امام حاکم، عمر بن علک کا یہ بیان کرتے ہیں: جب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے خراسان میں علم ، پرہیز گاری و زہد میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے پایہ کا کوئی شخص نہیں چھوڑا۔
شیخ ادریسی فرماتے ہیں: امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ان آئمہ میں سے ایک ہیں، علمِ حدیث میں جن کی پیروی کی جاتی ہے۔
تصانیف:
              امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت سی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں، جن کا اجمالی تعارف درج ذیل ہے:
1.       جامع ترمذی: علمِ حدیث کا مشہور ماخذ، جس کا تعارف اگلے صفحات میں آ رہا ہے۔
2.       کتاب العلل: اس میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث کے سند یا متن میں موجود خفیہ علتوں کی نشاندیہ کی ہے، اس نام سے مصنف نے دو کتابیں مرتب کی ہیں:  العلل الکبیر اور العلل الصغیر۔
3.       الشمائل المحمدیہ: یہ کتاب "شمائل ترمذی" کے نام سے مشہور ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ کے شمائل سے متعلق روایات اکٹھی کی گئی ہیں۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے سوائح نگاروں نے ان کی بعض دیگر تصانیف کا بھی ذکر کیا ہے، جن کے بارے میں ہمیں آگاہی حاصل نہیں ہو سکی۔
وفات:
                امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال 70 سال کی عمر میں، 13 رجب المرجب 279ھ میں ترمذ میں ہوا اور وہیں آپ کو سپردِ خاک کیا گیا۔

جلد اول (55.97MB)
جلد دوم (52.75MB)
 جلد سوم (44.30MB)


امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات درج ذیل ماخذ سے معلوم کیے جا سکتے ہیں:
تذکرۃ الحفاظ، 3/633، الوافی بالوفیات، 4/294، وفیات الاعیان، 4/278، البدایۃ والنہایۃ، 11/66، تہذیب التہذیب، 9/387، سیر اعلام النبلاء، 13/270، مزید حوالہ جات کے لئے جامع ترمذی کے اسی مجموعے کے صفحہ نمبر 29 کو ملاحظہ کیجیے۔


مکمل تحریر >>

Friday, February 8, 2019

Sahih Bukhari Urdu-Arabic Complete | صحیح بخاری مکمل عربی-اردو مترجم مولانا عبد الحکیم اختر شاہجہانپوری




 نوٹ
 کتاب کے سائز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر جلد کے تین حصے کیے گئے ہیں اور مکمل کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے


صفحہ نمبر
ابواب
نمبرشمار
100
کتاب  الوحی
1
106
کتاب الایمان
2
126
کتاب العلم
3
161
کتاب الوضو
4
197
کتاب الغسل
5
210
کتاب الحیض
6
223
کتاب التیمم
7
231
کتاب الصلوۃ
8

میرے بھائیو! اس کتاب کے مصنف امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جن کا مکمل نام "ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری الجعفی "ہے۔ آپ 13شوال المکرم 194ء میں ماوراء النہر کے مشہور شہر بخارا میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والدمحترم اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ الجعفی عظیم محدث اور ایک صالح بزرگ تھے۔  امام ابن حبان نے ان کو طبقہ رابعہ کے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔  نیز امام ذہبی نے تاریخ اسلام اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں ان کا مفصل تذکرہ لکھا۔

اس کتاب کا ترجمہ فاضلِ شھیر عالمِ اہل سنت علامہ عبد الحکیم اختر شاہجہانپوری نے کیا ہے

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے علم حدیث کی عظیم خدمت کی اور امیر المؤمنین فی الحدیث کہلائے اور آپ ایسے محدث ہیں جو حافظ الحدیث بھی کہلاتے ہیں۔ نیز آپ کے اساتذہ و طلباء اور اس زمانے کے لوگ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہپر رشک کرتے تھے۔  اس زمانے میں امام احمد بن حنبل ، امام یحیٰ بن معین اور  امام علی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہم کا فنِ حدیث میں چرچا تھا مگر جب آسمانِ علمِ حدیث پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کا سورج طلوع ہوا تو تمام محدثین ستاروں کی طرح چھپتے چلے گئے۔  گو کہ امام اعظم ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ کا مجموعہ احادیث بھی روایاتِ صحیحہ پر مشتمل تھا مگر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو واضح
مکمل تحریر >>